صبح الیکشن ہے اور میں ابھی یہ کالم لکھنے کی حقیر سی کوشش کر رہا ہوں۔ جانے کتنے انتخابات آئے۔ جانے کتنے لوگوں نے کالم لکھے۔ جانے کتنے لوگوں نے تجزیے کیے۔ شائد ہی کوئی ایسی بات رہ گئی ہو جو پہلے نا کسی نے کی ہو۔ لیکن پھر بھی یہ "کیتھارسس" کا کیڑا یہ لکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
ابھی الیکشن ہونے والے ہیں۔ اور اس دفعہ کے الیکشن میرے لیے اس وجہ سے بھی اہم ہیں کیونکہ میں ایک پاکستان کے نامی ٹیلیویژن چینل پر الیکشن سیل کو سپروائز کررہا ہوں۔ خیر اس تحریر کا مقصد کیا ہونے والا ہے یہ اس کا عنوان پہلے ہی صاف کرچکا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہر پارٹی نے اپنا منشور جاری کیا۔ کچھ نیا نہیں ہر دفعہ ہوتا ہے۔ اور منشور بھی کیا لطیفے کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ پچاس پچاس صفحوں کے منشور چھاپے ہیں۔ لیکن ساری پارٹیوں نے کچھ ایسا نہیں کہا جو پہلے کسی نے نا کہا ہو یا کسی دوسری پارٹی نے نا کہا ہو۔ خیر میں نے جو منشور پڑھے ان پر سوال پیدا ہوئے۔ چند مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔
ن لیگ کی بات کریں تو ان کے منشور میں یہ بھی شامل ہے کہ پلاسٹک بیگز پر پابندی لگائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے کیا پہلے بھی پابندی نہیں لگی ہوئی۔ اور اگر پابندی لگائیں گے تو فیکٹری مالکان کو آپ کیسے چپ کروائیں گے۔ پھر ان کے منشور میں یہ بھی شامل ہے کہ فصلوں کی آتشزدگی پر کنٹرول کریں گے۔ تو یہ تو پہلے بھی پابندی لگی ہوئی ہے۔ آپ کو حکومت کیا انوکھا کرے گی۔ کاربن کریڈٹ پالیسی کے نفاذ کا بھی بولا گیا۔ جو کہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ لیکن افسوس یہ بات بھی بس باتوں کی حد تک رہ جائے گی۔پھر بولا گیا کہ بروقت اور موثر عدالتی نظام کو لاگو کیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ کہ کیسے۔ اگر آپ اس سسٹم کو ٹھیک کریں گے تو یہ تو آپ کے خلاف بھی کام کرے گا۔ آپ کی کرپشن کیسسز کو بھی پکڑے گا آپ کا بھی احتساب ہوگا۔ اور اگر آپ بھی موثر عدالتی نظام کی لپیٹ میں آؤ گے تو یقیناً آپ اس نظام کو بہتر بس وعدوں سے ہی کریں گے عملاً کچھ بھی نہیں۔ ن لیگ نیب کی کارروائیوں سے خاصی دوچار نظر آئی تو انہوں نے اپنے منشور میں ہی ڈال دیا کہ اب ہم نیب کو ہی ختم کر دیں گے۔ مطلب نا ڈھولا ہوسی نا رولا ہوسی۔ نا نیب ہوگی نا ہمیں کوئی پکڑ پائے گا۔ اگر کوئی وعدہ پورے منشور میں مجھے پورا ہوتا نظر آرہا ہے تو وہ یہ ہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی۔ اس پر بھی ن لیگ نے اپنا چار سالہ ہدف بتایا کہ مہنگائی کی شرح کو 4 سے 6 فیصد تک لے کر آئیں گے۔ جو کہ اگر آپ معیشت کو تھوڑا سا بھی سمجھتے ہیں تو آپ کو پتا ہوگا کہ یہ تو سیدھا سیدھا چورن ہے۔ اس بات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر بےروزگاری کے خاتمے کےلئے ایک کروڑ نوکریوں کا بھی اعلان کردیا۔ مبارک ہو پاکستانیوں۔ پہلے خان صاحب نے یہ چورن آپ کو دیا اب میاں صاحب والا چورن کھا لیں۔ ایسا کیسے ممکن ہے ذرا روڈمیپ تو بتائیں ہمیں۔ تھوڑی سی خوشی ہوئی کہ AI پر بھی توجہ دی انہوں نے۔ لیکن منشور میں ذیادہ ٹیکنیکل باتیں نہیں لکھیں۔ تاکہ لوگ بور نا ہوجائیں۔ بلکہ شعلہ بیانی کی گئی ہے۔ اپنے کارکنوں کو خوش کرنے کےلئے اور ان کےلئے جواز تیار کرنا جب کوئی سمجھدار بندا حقیقت دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
بجلی کے بلوں میں 20 سے 30 فیصد کمی کا چورن بھی چٹایا۔ بس یہ بتائیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔ اگر آپ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرو گے جوکہ آپکے ہدف کے مطابق دس ہزار میگاواٹ ہے تو اس کے انفراسٹرکچر کا خرچہ تو آپ غریب عوام کی جیبوں سے ہی نکلواو گے۔ سرکار کان ہی پکڑنا ہے چاہے ادھر والا پکڑیں یا ادھر والا۔ مستقبل کے پاور پروڈیوسرز کے ساتھ معاہدے پاکستانی روپوں میں کرنے کا بولا گیا۔ لیکن سرکار سوال یہ ہے کہ موجودہ معاہدوں میں ترمیم کون کرے گا۔ تاکہ ان کو بھی پاکستانی روپوں میں ڈیل کیا جائے اور عوام پر اضافی بوجھ نا ڈالا جائے۔ مفت علاج کا بھی بولا گیا۔ لیکن ہم حقیقت کو اگنور نہیں کرسکتے کہ اگر میری جیب میں دو ہزار ہے اور میں اپنے دوستوں کو دس ہزار کی دعوت کھلا دوں۔ اب یہ اضافی پیسہ میں نے ادا تو کرنا ہے لیکن کسیے۔ میری جیب میں تو دو ہزار ہے۔ اب یا تو میں دوستوں سے ادھار لوں گا۔ یا ہوٹل سے مہلت۔ ایسا ہی حال مفت علاج کے چورن کا بھی ہے۔ ہمارے خزانے میں کچھ ہے نہیں اور ہم مفت علاج دینے چلے ہیں۔اس کے بعد سب سے اچھے وعدے کیے ن لیگ نے جو میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں کہ پورے ہوں۔ اور ان کا معیشت کو بھی دائرہ ہوگا۔ نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا سیاحت بھی بڑھائے گا۔ اور بین الاقوامی تاثر بھی تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ اگر وہ وعدے پورے ہوگئے تو۔ اور یہ وعدے شائد کسی اور پارٹی نے اپنے منشور میں ڈالے بھی نہیں۔ خیر ان وعدوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ کہ ایک نئی میڈیا اینڈ فلم یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ یہ کتنی خوش آئند بات ہے کہ حکومتی سطح پر فلم اور میڈیا پر توجہ دی جارہی ہے۔ اسلام آباد کو میڈیا سٹی بھی بنایا جائے گا۔ جو کہ ہونا بھی چاہیے۔ پی ٹی وی کو ایچ ڈی پر کنورٹ کیا جائے گا۔ اور ریڈیو پاکستان کو پی ٹی وی کے ساتھ ضم کیا جائے گا۔ کاش اس سے پی ٹی وی میں کچھ بہتری آجائے۔ اور اس سے ہماری ہر ماہ دی جانے والی ٹی وی فیس واقع وصول ہو۔ کچھ جدت آئے پی ٹی وی میں۔ نیٹ فلیکس اور اس جیسے پلیٹ فارم پر لوگ تفریح کےلئے کتنے پیسے ماہانہ دیتے ہیں۔ اور وہ سارے باہر کی کمپنیوں میں جاتے ہیں۔ اگر یہ ہی ایک پلیٹ فارم ہمارا بھی ہو جس پر ہم پاکستان کے کانٹینٹ سمیت بین الاقوامی کانٹینٹ دیکھ سکیں تو ہم جو پیسہ نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن پر دیتے ہیں وہ ہمارے پاس ہی رہ جائے۔ پاکستان فلم انسٹیٹیوٹ ، پاکستان فلم سٹی ، پاکستان فلم اکیڈمی بنانے کا بھی وعدہ کیا۔ ان میں سے اگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا کر دے ن لیگ تو کیا ہی کہنے۔ سستے مقامی سینما گھر بنانے کا بھی بولا گیا۔ یہ حکومت کےلئے ایک ذریعہ معاش بھی ہو سکتا ہے اور عوام کی تفریح کا ایک سبب۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ تحریر صرف ن لیگ کے منشور پر ہی لکھ رہا ہوں تو ایسا نا ہو اس لیے پیپلز پارٹی کے منشور کی بات کروں تو وہ ہی چورن بیچا جارہا ہے جو ن لیگ نے بیچا۔ لیکن ایک بات بلاول نے بڑی انوکھی کی جس نے مجھے کچھ سیکنڈز کےلئے سکتے میں ڈال دیا کہ غریبوں کو 300 یونٹس تک بجلی مفت دی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کونسا ایسا نظام ہے جس سے آپ غریب ہونے کا تعین کریں گے۔ اور اگر تعین کر بھی لیں تو کیا اعدادوشمار ہمیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ بجلی مفت دیں۔ یہ تو وہ ہی بات ہوگئی " پلے نہیں دھیلا تے کردی میلا میلا"۔ کیا ہم نے غریب کو ہمیشہ غریب ہی رکھنا ہے تاکہ آپ کے ہر الیکشن میں یہ چورن بکتے رہیں کہ ہم غریب کو مفت میں یہ دے رہے ہیں وہ دے رہے ہیں۔ بلاول صاحب آپ کے پاس حقیقت میں غریب کو غربت کی لکیر سے اپر لانے کا کیا پلان ہے۔ تاکہ غریب اپنی دال روٹی سے آگے بھی سوچے۔ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ شائد یہ سارے حکمران ہمیں خوشحال کیسے ہونے دیں گے۔ غریب اگر غربت کی لکیر سے اپر اٹھ جائے گا تو پھر تو وہ باقی چیزیں بھی مانگے گا نا۔ پھر تو وہ آپ کی چکنی چپڑی باتوں سے پاگل بن کر آپ کو ووٹ نہیں دے گا نا۔ کسی پارٹی کا یہ منشور نہیں تھا کہ ہم عوام کو سیاسی شعور دیں گے۔ کیونکہ ان کو پتا ہے اگر ان کو سیاسی شعور آگیا تو کل کو یہ کام دھندا چھوڑ کر دھرنے میں میری فصول تقریریں سننے نہیں آئے گا۔ اس کے علاؤہ وہی رونے روئے گئے پیپلز پارٹی کے منشور میں جو کہ تقریباً ہر پارٹی نے روئے، علاج مفت، تعلیم یکساں، کشمیریوں کا ساتھ، بجلی کی فراہمی، کچھ نیا نہیں۔ پھر ایک بڑی زبردست بات کی کہ جامعہ کی چھٹی کو بحال کریں گے۔ آپ ایک پارٹی کا منشور پیش کر رہے ہو اور آپ کے منشور میں یہ شامل ہے کہ جامعہ کی چھٹی بحال کریں گے۔ کمال کرتے ہو سرکار، اس سے پیدا ہونے والی گڑبڑ کا کوئی اندازہ لگایا ہے یا منشور لکھنے والے کے دل میں جو آیا لکھتا گیا۔ منشور لکھ رہا تھا یا کالم۔ پھر اگر بات کروں استحکام پاکستان پارٹی کی تو انہوں نے وہ کارڈ کھیلنے کو کوشش کی جو کہ پچھے پچھتر سال سے کھیلا جارہا ہے اور وہ کارڈ ہردفعہ کام کرتا ہے یعنی کہ مذہب کارڈ۔ انہوں نے اپنے منشور میں شامل کیا کہ ہم ناموس رسالت و ختم نبوت کا تحفظ کریں گے۔ سرکار اگر یہ کام آپ کریں گے تو تحریک لبیک کیا کرے گی ان کے پاس تو کل ملا کے ہر مسئلے کا حل ہی یہ کارڈ ہے۔ باقی ان کا بھی وہی رونا جو باقی پارٹیوں کا۔ خیر یہ رونا چلتا رہے گا۔ الیکشن سے پہلے بھی الیکشن کے بعد بھی۔ مزدور کو غریب کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کون سی حکومت آرہی کونسی جارہی۔ وہ پہلے بھی محنت کر کے کھاتا تھا اب بھی محنت کرکے کھائے گا۔
2 comments