پاکستان میں عام انتخابات کا عمل دو ہفتوں سے مکمل ہوچکاہےمگر کچھ نتائج ابھی بھی مکمل نہیں ہوئے اس کی وجہ آپ الیکشن کمیشن سےیا عدالتوں سے نہیں پوچھ سکتے ہیں نہیں تو آپ توہین کے
مرتکب ہو جایئں گے اور آپ کو پوری زندگی کی قید ہوسکتی ہے مختلف کیسسز میں اور وہ کیسسز لگانے کے ماہر ہیں۔ نتائج میں تاخیر انتخابات پر شقوق وشبہات میں مزید اضافہ کرتاہے مگر ہماری تو کوئی سنتاہی نہیں ایم کیو ایم کے مصطفی کمال کی آڈیو لیگ سے مزید دھاندلی کلیر ہوتی ہے حال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو خود بھی اپنی جیت پر اعتبار نہیں کہ وہ جیت گئے ہیں مگر ان تمام باتوں میں اضافہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کیاہے ۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مستحکم آؤٹ لک ’سی اے اے 3‘ پر برقرار رکھتے ہوئے انتہائی متنازع انتخابات اور متوقع اتحادی حکومت کی محدود فیصلہ سازی کی صلاحیت کے سبب لیکوڈٹی کے خطرات اور بیرونی محاذ پر چیلنجز پر روشنی ڈالی۔رپورٹ کے مطابق دنیا کی تین بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک موڈیز نے بتایا کہ اس نے پاکستان کی ریٹنگ کا جائزہ گزشتہ ہفتے مکمل کر لیا، لیکن موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ ایکشن کا اعلان کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں کریڈٹ ریٹنگ ایکشن کے حوالے سے کوئی عندیہ دیا ہے۔
یاد رہےکہ گزشتہ برس فروری میں عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ 2 درجے کم کرکے سی اے اے 3 کردی تھی، جس کی وجہ ڈیفالٹ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مخصوص خطرات بتائے گئے تھے۔
ایجنسی نے مشاہدہ کیا کہ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سیاسی خطرات زیادہ ہیں، مزید کہا کہ بظاہر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مل کر اتحادی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں، لیکن عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ موجودہ قرض پروگرام کی اپریل میں معیاد ختم ہونے کے فوراً بعد نومنتخب حکومت کی نئے پروگرام پر فوری مذاکرات کرنے کی خواہش اور صلاحیت کے بارے میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے۔اور اس بے یقینی کی صورت حال میں پاکستان کو کوئی بھی قرض دینے سے پہلے ایک سو مرتبہ سوچے گا اور قرج پاکستان کی بقاء کے کیے ضروری ہے ۔
موڈیز کا کہنا تھا کہ ’ممکنہ طور پر نئی مخلوط حکومت کا انتخابی مینڈیٹ مشکل اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط ثابت نہ ہو، جو نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے درکار ہے، نئے قرض پروگرام پر اتفاق نہ ہونے تک پاکستان کی دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں کے ساتھ قرض حاصل کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر محدود ہوگی۔ ملک کا کریڈٹ پروفائل حکومت کی ’بہت زیادہ نقدیت اور بیرونی کمزوری کے خطرات‘ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ زرمبادلہ کے کم ذخائر درمیانی مدت میں بہت زیادہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت سے کافی نیچے ہے، موڈیز کے مطابق ملک کی کمزور مالی طاقت اور سیاسی خطرات بھی کریڈٹ پروفائل کو محدود کرتے ہیں۔
موڈیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جون 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے واجب الادا بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کرنے کا امکان ہے، لیکن اپریل میں موجودہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کے ختم ہونے کے بعد اس کی ’بہت زیادہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات‘ کو پورا کرنے کے لیے مالی وسائل کے حوالے سے صورتحال محدود نظر آتی ہے۔تو اس سے معلوم ہوتاہے کہ ایک شفاف انتخابات کتنے ضروری تھی مگر لوگوں کو مایوس کیا گیا ان کو اپنا حق استعمال کرنے نہیں دیا گیا ہے دوسراعالمی دنیا میں ہمارا مزاق بنایا گیا اور ان مشکل اکانومی کے حالات میں 42 ارب روپے ضائع کئے گئے۔




Post a Comment