-->
yrDJooVjUUVjPPmgydgdYJNMEAXQXw13gYAIRnOQ
Bookmark

عدت کیس کا 50 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ

 
‏عدت کیس کا 50 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ


استغاثہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا یکم جنوری 2018 کا نکاح دھوکے اور بے ایمانی پر مبنی اور غیر قانونی تھا

دونوں ملزمان نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے


عمران خان نے بشریٰ بی بی سے عدت میں نکاح کر کے خاور مانیکا کو "رجوع" کے حق سے محروم کر دیا


قرآن مجید کی سورۃ بقرہ میں واضح طور پر مطلقہ عورتوں کی عدت 3 ماہ یا 90 دن بتائی گئی ہے۔ مگر عمران خان اور بشریٰ بی بی نے یہ عدت کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی نکاح کر لیا

عدت پوری نہ ہونے کا علم ہونے کے باوجود بشریٰ بی بی اور عمران خان نے نکاح کر لیا، اسلام نے ایسے نکاح کو حرام اور جنسی تعلق کو زنا قرار دیا ہے، اسلام کے اس سے متعلق بالکل واضح احکامات ہیں

ملزمان نے نکاح سے قبل روحانیت کے نام پر نا جائز تعلقات بنائے۔

 خاور مانیکا نے حلفیہ بیان دیا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے دھرنوں کے درمیان تعلقات استوار کئے ،خاور مانیکا کے مطابق بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی اکیلے میں گھنٹوں ملاقات کرتے تھے، عمران خان ، اور بشریٰ بی بی خاور مانیکا کی غیر موجودگی میں بھی ملتے تھے،

 بشری بی بی اور عمران خان نے تنہائی میں ملاقاتوں سے متعلق خاور مانیکا کے بیان کی تردید نہیں کی

عمران خان اور بشری نے دھرنے کے دوران ملاقاتوں سے بھی انکار نہیں کیا

ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے رہتے تھے

 بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں آپس میں رابطے کی تصدیق کی،

محرم نامحرم کی اہمیت اسلام میں بہت ہے،

سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں غیر مِحرم مرد اور عورت کی خلوت میں ملاقات جائز ہے؟ خصوصی طور پر جب ان خلوت میں ملاقاتوں کا اختتام یکم جنوری 2018 کے نکاح پر ہو؟ اس سوال کا جواب حقیقی طور پر نفی میں ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 کے تحت جرم ثابت ہوتا ہے

عمران خان ، بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید، 5، 5 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے

جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو 4، 4 ماہ اضافی قید کاٹنا ہوگی

 دونوں ملزمان کے گرفتاری کے وارنٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو جاری کئے جاتے ہیں، دونوں ملزمان پہلے سے گرفتار ہیں ہیں لہذا ان کو اس کیس میں بھی جیل میں رکھا جائے،

 جوڈیشل مجسٹریٹ قدرت اللہ کی جانب سے عدت کیس میں نکاح کا تفصیلی فیصلہ...

اس کیس میں جس طرح نکاح خواں/ گواہوں/ مانیکا کے ملازم بشریٰ بی بی کے سابق شوہر نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے کردار کی پرتیں کھولی اور عدالت میں جس بےشرمی سے عمران خان کے وکیل حیض حیض کر کے بشریٰ بی بی کو مزید پھنساتے چلے گئے، عمران خان نے ملاقاتوں سے انکار نا کر کے بشریٰ بی بی کو خود ہی حیاباختہ عورت ثابت کیا اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بشریٰ بیبی ہی عمران خان کا وہ نظام ہے جس کے بارے میں تحریک انصاف روز دہائی دیتی ہے کہ عمران خان نے نظام ننگا کر دیا

عمران خان شائد حلال کا کبھی عادی رہا نہیں اس لیے حلال رشتے کو بھی حرام طریقے سے اپنایا 

واضع رہے کہ اس کیس میں بشریٰ بی بی بدترین جھوٹی ثابت ہوئی جس نے دفعہ 342 کے تحت بیان دیا کہ 

اپریل 2017 میں خاور مانیکا نے زبانی طلاق دی جبکہ خاور مانیکا کے پاس بشریٰ بی بی کے ساتھ اگست کے شمالی علاقوں کے ٹور کی تصاویر موجود تھیں جسے عدالت میں پیش کیا گیا 

جب زوال کی دیمک لگے تو بڑے بڑے بُت اپنے پورے قد سے دھڑام سے زمین پر آ گرتے ہیں

رب کردار پر پڑی ملمعے کی پرت دھیرے دھیرے سرکاتا جاتا ہے بےشک یہ رب کی پکڑ ہے کہ عمران خان پر صرف زنا ہی نہیں پانچوں شرعی عیوب ثابت ہو چکے

جھوٹ، چوری ،بددیانتی ،جواء ،زنا..

کیا چیز ہے جو ابھی ثابت ہونا باقی ہے افسوس صد افسوس کے یہ بہروپیا ریاست مدینہ کا چورن بیچتا تھا اور ہم خریدتے بھی تھے

Post a Comment

Post a Comment