-->
yrDJooVjUUVjPPmgydgdYJNMEAXQXw13gYAIRnOQ
Bookmark

سوشل میڈیا ایک عوامی طاقت، جس سےبڑے حلقے پریشان

 


حالات پہلے سے ہی بے یقینی کا شکار ہو چکے تھے مگر کوئی اس طرح کے ٹھوس وجوہات سامنے نہیں تھیں مگر یہ بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس نے لوگوں کو حالات کی تہہ تک پہنچنے میں مدد فراہم کی اس سے پہلے بھی مختلف میڈیم لوگوں کو باخبر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے مگر وہ تمام کنٹرولڈ تھے ان کو کسی نے اپنے ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا اور خبریں یا باتیں عوام تک ایک فلٹر ہونے کے بعد پہنچتی تھی۔ اور اصل خبر تو یہی سمجھے کہ نہیں ہی پہنچتی تھی تو اسی طرح کچھ لوگوں کا وقت اچھا چل رہا تھا میری مراد پاکستان کی ایک مظبوط طاقت ہے وہ طاقتور خوب مزے کرتا رہا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بناتا رہا ہے کیونکہ لوگ اصلیت سے واقف نہیں تھے اور میڈیا ان کو بتاتا نہیں تھا کیونکہ میڈیا بھی اس میں سے پرسنٹیج لیتا تھا پس پھر سوشل میڈیا نے پاکستان میں کیا پوری دنیا میں ترقی کی اور عوام تک سچی خبریں پہنچانا شروع کر دی اور پھر اس کے نتائج اپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر قسم کا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر بے نقاب ہو جاتا ہے اور ازادی اظہار رائے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
ان تمام باتوں کا مقصد کچھ اج اہم شخص کی باتوں کی وجہ سے کرنا پڑی جنہوں نے اج کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کا مقصد بے یقینی افرا تفریح اور مایوسی پھیلانا ہے سوشل میڈیا کی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہے تحقیق اور مثبت سوچ کے بغیر معاشرہ افرا تفریح کا شکار رہتا ہے تو میرا ادھر ایک چھوٹا سا سوال بنتا ہے کہ ایک ادارے کے سربراہ کو ایسی باتیں کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش ائی یار کبھی کسی اور ادارے کے سربراہ نے تو اس طرح کی باتیں نہیں کی کہ پروپگنڈا ہے فلاں فلاں تو اس کے علاوہ مجھے یہ ایک عجیب سلسلہ لگا جو میرے شکوک و شبہات کو مزید ابھارتا دیتا ہے کہ یار یہ نگران حکومت یا آرمی چیف کو یونیورسٹی میں جانے کی ضرورت ہی کیوں پیش ائی کہ اس سے پہلے تو کبھی نہیں لیتے رہے 2018 میں بھی نگران حکومت تھی ارمی چیف پہ تھے کوئی نہیں جاتا رہا نہ ہی سوالات رہتے رہے نہ ہی نوجوانوں کے درمیان جاتے رہے آخر ایسی فضا پیدا کی گئی اور آن گراؤنڈ ایسی فضا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ جا رہے ہیں اور اس بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کے ذمہ وار بھی یہ لوگ ہیں۔پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں کیا ڈبل معنی رکھتا ہے یہ تو یہ کہ پاکستان ہے تو ان کے مزے ورنہ یہ کسی کام کے نہیں جملہ ایک بندے کو اپنی قابلیت پہ میرے خیال میں شک ہے فرض کریں میں ایک اکیلی شخصیت یا اپ ایک اکیلی شخصیت اپ کی پہچان اپ کا نام اپ کا کام اپ کا کردار ہے اپ دنیا میں جہاں مرضی جائیں اپ اپ ہیں میں عبداللہ ہوں میں اپنی پہچان خود ہوں ٹھیک ہے ملک نے مجھے نیشنلٹی دی ہے اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ملک کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں کئی لوگ باہر کے ممالک میں پاکستانی گئے وہ اپنی پہچان اپ تھے اور انہوں نے دنیا میں اپنا نام پیدا کیا اپنے نام کے پیدا کرنے کے بعد ہی دنیا نے پاکستان کو پہچانا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دیکھ لیں سب سے پہلے ان کو دنیا جانتی ہے ڈاکٹر عبدالسلام کو دیکھ لیں دنیا ان کو جانتی ہے پہلے اس کے بعد پھر پاکستان کو جانتی ہے انہی کی وجہ سے تو یقینا جان بوجھ کے بے یقینی افرا تفریح اور مایوسی ایک پری پلان طریقے سے پاکستان میں انہی کی وجہ سے پھیل رہی ہے انہی کے کچھ کرتوتوں کی وجہ سے ہی اج کا نوجوان ان سے انتہائی مایوس کن ہے۔
 آج ہمارے سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا عمل مقصد نوجوانوں کو اچھی تعلیم دینا میرا سوال یہ بنتا ہے کہ کم و پیش چھوٹی موٹی 10 سال حکومت تو یہ یا ان کا بھائی کرتے رہے ہیں انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا جو اج عوام کو یہ وعدہ دےرہے ہیں۔اس وقت ہمارا ایک ادارہ مکمل طور پر عوام میں اعتماد کھو چکا ہے دنیا کی کوئی بھی فوج ہو وہ کبھی بھی عوام کے تعاون کے بغیر نہیں لڑ سکتی اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک جذبہ رکھنے والی فوج ہم رکھتے ہیں مگر استعمال غلط ہو رہی ہے ان کو چلانے والے میری مراد عالمی طاقتیں غلط انداز سے چلا رہی ہیں اور یہ اپنے لوگوں پر بھی ظلم کر رہے ہیں۔مگر ظلم جو ہے وہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا اور پاکستان قوم ایک محنتی اور باشعور قوم ہے مگر حکمرانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہے
تو میرابات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس مرتبہ ووٹ اپنی ضمیر کی آواز پر دیں اور اپنے ووٹ کی نگرانی بھی کریں لیکن ووٹ سے پہلے اچھی طرح اپنے نمائندے کی جانچ پڑتال ماضی میں کردار اور ترقیات تک کاموں کو مدنظر رکھیں اور اس کے انے والے دنوں میں وعدوں پر بالکل بھی اعتبار نہ کرے اور اپنی محنت جاری رکھیں
اور سوشل میڈیا پر آزادی سے اپنی رائے اپنی نظریات اور اپنی سوچ کا اظہار کریں کوئی آپ کی سوچ کی پیمائش کوئی نہیں کر سکتا یا نہیں پرکھ سکتا کہ اپ کی بات درست ہے یا غلط کیونکہ اپ آزاد سوچ کے مالک ہیں اپ کی سوچ سے اختلاف ہو سکتا مگر غلط نہیں کہہ سکتا اپ اپنی جگہ پہ درست ہو سکتے ہیں اور ثابت کر کے دکھائیں۔۔کیونکہ یہ جو لوگ سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کو پروپگنڈا کہتے ہیں یہ تو ماضی میں پاکستان کے آئین کو کئی مرتبہ روندنے کے مجرم ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے بے خبر ہیں جس کی مثال اپ کل کے بلوچ مظاہرہن دھرنا سے لے سکتے ہیں ان کی ایک بھی نہیں مانی گئی اور کبھی کیا اور کبھی کیا پروپگنڈا کر کے ان کو نکالا گیا اور باقی پنجاب پولیس کی انتہائی بد سلوک کی ایک مخصوص پارٹی کے لوگوں سے اپ دیکھ سکتے ہیں اور اپ لوگوں نے مختلف ویڈیوز بھی دیکھی ہیں جو کہ ہماری معزز عدالت نے کہا ہے ویڈیو تو ہم ثبوت کے طور پر نہیں دیکھتے تو میرا ذاتی مشورہ نوجوانوں کے لیے یہی ہے کہ اپ کو جب بھی موقع ملے کسی ازاد ملک جانے کا اور وہاں رہنے کا تو اپ انکھیں بند کر کے جا سکتے ہیں ایک ازاد ملک میں میں سمجھتا ہوں کہ اج کا نوجوان اپنا حق لینا اچھی طرح جانتا ہے اور اس ڈیجیٹل ایرا کے دور میں یہ بھی ایک میڈیم ہے سوشل میڈیا اپنی حق کی اواز بلند کرنا کے لیے اور اپنے حق لینے کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان کو اپنے حق مانگنے کی بجائے چھیننا چاہیے یعنی حق مانگنا بھیک مانگنے کے مترادف ہے اور میں سمجھتا ہوں بھیک مانگنا بچوں اور بوڑھوں کا پیشہ ہے ایک نوجوان جو چوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اسے اپنا حق نہ ملے مگر پھر بھی اسے معلوم ہو کہ اسے حق نہیں ملنا تو وہ مانگے یہ انتہائی شرمناک ہے تو اپنا حق باعزت طریقے سے حاصل کرنے کی مکمل جدوجہد جاری رکھیں میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے ٹارگٹ اپنے منزل تک پہنچنے والے ہیں اور ان کی حرکات ان کی چال ڈھال اج کل یہی ظاہر کروا رہی ہے باقی میں بھی اپ کو اپنی باتوں سے اختلاف کا 100 فیصد حق دیتا ہوں اب میری باتوں سے اختلاف رکھ سکتے ہیں مگر اپ کو ضمیر کبھی یا کہیں نہ کہیں یہ اواز ضرور دے گا کہ ہم آزاد ہیں اور ہمیں اپنی ازادی اظہار رائے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا شکریہ

[عبدللہ خان]


Post a Comment

Post a Comment